• KHI: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • LHR: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • ISB: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • KHI: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • LHR: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • ISB: Zuhr 5:00am Asr 5:00am

قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کی خریداری ایک سال کیلئے موخر

شائع December 4, 2024
— فائل فوٹو: اے پی پی
— فائل فوٹو: اے پی پی

حکومت پاکستان نے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے 5 اضافی کارگوز کی خریداری ایک سال کے لیے موخر کردی اور اب معاہدے کے تحت 2025 میں آنے والے کارگوز 2026 میں منگوایا جائے گا۔

وفاقی وزیرپیٹرولیم مصدق ملک نے پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ ملک میں ایل این جی سرپلس ہے، اس لیے قطر سے ایل این جی کے 5 اضافی کارگوز کو موخر کردیا گیا ہے، مزید 5 کارگوز بھی ایک سال کے لیے موخرکیےجانے کا امکان ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح یا اسپاٹ ایل این جی کا کوئی اضافی کارگو نہیں منگوایا جارہا، قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کو موخر کردیا اور مزید 5 کارگوز پر بات چیت ہورہی ہے جنہیں موخر کیے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کارخانے ایل این جی نہیں خرید رہے، اس لیے گیس اضافی ہو رہی ہے، درآمدی گیس مہنگی ہونے کے باعث نجی شعبہ ایل این جی نہیں خریدرہا۔

مصدق ملک نے کہا کہ معاہدوں کو منسوخ کرنے کے بجائے انہیں مؤخر کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ مزید 5 کارگوز بھی اگلے سال تک موخر کیےجانے کا امکان ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سعودی عرب کےساتھ موجودہ دور میں2 ارب 80 کروڑ ڈالرز کے ایم اویوز ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ 34 ایم او یوز ہوئے، ان میں 7 معاہدوں میں تبدیل ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ بجلی، آئی ٹی اور فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں ایم اویوز ہوئے، پی آر ایل اور سعودی کمپنی کا 1.7 ارب ڈالر کا معاہدہ ہورہا ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ روس سےرعایتی نرخوں پرخام تیل درآمد کرنے کی خبریں بلکل غلط ہیں، روس کےساتھ خام تیل سے متعلق کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میں میڈیا پر آنے والی خبروں کی تردیدکرتا ہوں، جب کوئی اچھی ڈیل ملے گی تو دیکھیں گے۔

یاد رہے کہ قطر، ایل این جی کا سب سے بڑا پیداواری ملک اور برآمد کنندہ ہے اور حالیہ مہینوں میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے اور ایل این جی کی برآمدی منڈیوں میں مزید رسائی حاصل کر رہا ہے۔

اکتوبر کے اواخر میں ڈاکٹر فرید ملک کی زیر سربراہی توانائی کے ماہرین پر مشتمل ایک گروپ نے نئی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تھر کول سے پیدا ہونے والی گیس درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے سستی ہے، جس سے ایندھن اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس وقت تھر کے کوئلے کو گیس نہیں بلکہ بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم لیبارٹری ٹیسٹ سے پتا چلتا ہے کہ یہ گیس بنانے کے لیے بھی موزوں ہے، جس کا استعمال کھاد، اسٹیل اور ایندھن کی صنعتوں میں کیا جاسکتا ہے۔

ماہر توانائی و ٹیکنالوجی منتظمیت اور حکومت سندھ کے مشیر ڈاکٹر فرید ملک نے ڈان کو بتایا تھا کہ جنوبی افریقہ کی نیلسن منڈیلا یونیورسٹی میں لیبارٹری ٹیسٹ سے پتا چلا ہے کہ تھر کے کوئلے سے گیس بنائی جاسکتی ہے، انہوں نے تخمینہ لگایا کہ تھر کوئلے کو استعمال کر کے پاکستان میں گیس کی قیمتیں 30 سے 60 فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدی ایل این جی کی قیمت 14 ڈالر سے 20 ڈالر فی میٹرک ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے درمیان ہے، مزید کہنا تھا کہ تھر کوئلے سے گیس کی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 7 سے 8 ڈالر میں لگایا گیا ہے۔

ٹیسٹ کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ تھر کے کوئلے میں ’ایش‘ کی مقدار تقریباً 18 فیصد ہے، اس کے درجہ حرارت کا بہاؤ تقریباً ایک ہزار 325 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جو گیس بنانے کے لیے موزوں ہے۔

ماضی میں اسی طرح کے ایک تجربے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر فرید ملک نے کہا تھا کہ چند سال قبل ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی زیر نگرانی کیا گیا زیر زمین کوئلے سے گیس بنانے کا تجربہ قابل عمل نہیں تھا کیونکہ مطلوبہ ٹیکنالوجی تجارتی طور پر دستیاب نہیں تھی، تاہم کوئلے کی کان کنی کے بعد اب یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بہت سے ممالک میں استعمال ہو رہی ہے بلکہ وسیع پیمانے پر دستیاب بھی ہے۔

ڈاکٹر فرید ملک نے اندازہ لگایا تھا کہ تھر کوئلے سے گیس بنانے کا عمل تقریباً 50 لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر کی لاگت سے شروع ہو سکتا ہے۔

پاکستان تھرپارکر کے بلاک ون اور بلاک ٹو میں کوئلے کے فیلڈز سے تقریباً 2 ہزار 640 میگا واٹ سستی بجلی پیدا کرتا ہے، یہ ملک کی بجلی کی ضروریات کا 10 فیصد اور اس کی لاگت 4.4 روپے فی یونٹ ہے، جو دوسرے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی سے بہت ہے۔

ڈاکٹر فرید ملک کا کہنا تھا کہ تھر کول پروجیکٹ نے اپنے آغاز سے اب تک تقریباً ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ بچانے میں مدد کی ہے۔

پاک۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے امریکی پابندیوں سے استشنی کی کوشش کریں گے

آج میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے وزیر پیٹرولیم سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال کیا کہ کیا نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایڈمنسٹریشن کےساتھ یہ معاملہ اٹھایا جائے گا؟ مصدق ملک نے جواب دیا کہ جی، منصوبے پر امریکی پابندیوں سے استشنی لینے کی کوشش کریں گے، ہماری کوشش تو یہ ہے کہ ہمیں آئی پی گیس منصوبے پر استشنی مل جائے، اس سے متعق مزید بات کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ 7 اگست 2023 کو پاکستان نے ایران کو اربوں ڈالر کے ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے متعلق معاہدے کے تحت طے شدہ ذمہ داری کو معطل کرنے کے لیے ’فورس میجر اینڈ ایکسکیوزنگ ایونٹ‘ نوٹس جاری کیا تھا جس میں پاکستان کے قابو سے باہر بیرونی عوامل کا حوالہ دیا گیا۔

سادھے الفاظ میں پاکستان نے اس وقت تک منصوبہ آگے بڑھانے سے اپنی معذوری ظاہر کی ہے جب تک کہ ایران پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں یا امریکا کی جانب سے اسلام آباد کو منصوبے پر آگے بڑھنے کے لیے کوئی مثبت اشارہ دیا جائے۔

یہ منصوبہ 24 کروڑ عوام کے جنوبی ایشیائی ملک میں توانائی کی شدید قلت کے باوجود تقریباً ایک دہائی سے سرد خانے میں پڑا ہے۔

23 فروری 2024 کو کابینہ کی توانائی کمیٹی نے پاک ۔ ایران گیس پائپ منصوبے کے تحت 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی تھی۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025