تقریباً تمام ممالک موسمیاتی اہداف پر اقوام متحدہ کی ڈیڈلائن پر عمل کرنے میں ناکام
تقریباً تمام ممالک نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے سے متعلق نئے اہداف کی فہرست پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا جن میں بڑی معیشتیں بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ میں بتایاگیا کہ اقوام متحدہ کے ڈیٹا بیس کے مطابق پیرس معاہدے کے تحت 10 فروری تک 200 ممالک نے نئے موسمیاتی منصوبے فراہم کرنے تھے لیکن صرف 10 ممالک نے ہی اس ڈیڈلائن کو پورا کیا۔
موسمیاتی معاہدے کے تحت تمام ممالک 2035 تک ہیٹ ٹریپنگ کے اخراج کو کم کرنے کے لئے ایک اعداد وشمار فراہم کریں گے اور اس کے حصول کے لیے ایک تفصیلی خاکہ پیش کریں گے۔
پیرس معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کو محفوظ سطح تک محدود کیا جائے گا تاہم عالمی اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس دہائی کے آخر تک اسے تقریبا نصف کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے موسمیاتی امور کے سربراہ سائمن سٹیل نے حالیہ قومی وعدوں کو ’اس صدی کی سب سے اہم پالیسی دستاویزات‘ قرار دیا ہے۔
تاہم، اس کے باوجود آلودگی پھیلانے والے چند بڑے ممالک نے بروقت اہداف حاصل کیے ہیں، جن میں چین، بھارت اور یورپی یونین شامل ہیں۔
جی 20 کی زیادہ تر معیشتوں کی جانب سے اس پر عمل نہیں کیا گیا جب کہ اس سال اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والے ممالک امریکا، برطانیہ اور برازیل اس سے استثنیٰ ہیں۔
امریکا کی جانب سے کیا گیا وعدہ بڑی حد تک علامتی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن کو پیرس معاہدے سے باہر کرنے کا حکمنامے پر دستخط کرنے سے پہلے کیا گیا تھا۔
احتساب
تاخیر سے اہداف جمع کرانے پر کوئی جرمانہ نہیں ہے جسے باضابطہ طور پر قومی طور پر طے شدہ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) کا نام دیا گیا ہے۔
’وہ قانونی طور پر پابند نہیں ہیں لیکن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے احتسابی عمل کے تحت ممالک موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور پیرس کے اہداف کے حصول کے لیے اپنا منصفانہ حصہ ادا کر رہے ہیں‘۔