موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خیبرپختونخوا حکومت کے اقدامات عالمی سطح پر کئی ممالک کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے جہاں ایک طرف دنیا کے کئی ممالک کے مابین مختلف قسم کے تنازعات جنم لے رہے ہیں تو دوسری طرف جنوبی ایشیابالخصوص پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی شکل میں ایک نئے مسلے نے سر اٹھالیا ہے جس کے اثرات سے پاکستان کئی سالوں سے متاثر ہورہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجوہات میں کاربن گیسوں کا اخراج، گاڑیوں، بھٹہ خشتوں اور صنعتی کارخانوں سے نکلنے والا دھواں، بڑھتی ہوئی آبادی اور جنگلات کا کٹاؤ شامل ہیں،مذکورہ عوامل کی وجہ سے تیزی سے رونما موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان میں زراعت، توانائی سمیت دیگر شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون میں حد سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے ایک طرف پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں سیلاب نے تباہ کاریاں مچائی ہیں جبکہ دوسری طرف لوگوں کو جان و مال کا نقصان بھی اٹھانا پڑا اورحکومتی انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
طویل خشک سالی اور موسم میں شدید قسم کا اتار چڑھاؤ بھی موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ ہے،موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔

اس حوالے سے ادارہ تحفظ ماحولیات میں موسمیاتی تبدیلی کا ایک الگ سیل قائم کیا گیا ہے، جس نے اب تک خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ملک میں پہلی کلائمیٹ چینج پالیسی بنانے کا اعزاز پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کو حاصل ہے جنہوں نے سب سے پہلے 2017 میں کلائمیٹ چینج پالیسی بنائی جس کے تحت 342 حکمت عملیاں مرتب کی گئی ہیں۔
کلائمیٹ چینج پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے کلائمیٹ چینج ایکشن کمیٹی کاقیام بھی عمل میں لایا گیا جس کے اب تک متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
عمران خان کے وژن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے بلین ٹری پراجیکٹ کے تحت صوبے میں خطیر رقبے پر شجرکاری کی گئی جس کے نہ صرف ماحول پر اچھے اثرات مرتب ہوئے بلکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے۔
خیبرپختونخوا حکومت بہت جلد بلین ٹری پلس پلانٹیشن منصوبہ بھی شروع کررہی ہے،صوبائی حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے بھی ماحول دوست اقدامات اٹھائے ہیں، فضائی آلودگی کا سبب بننے والے عوامل پر خیبرپختونخوا حکومت نے بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
صنعتی یونٹس میں متعلقہ رولز کی خلاف ورزی اور اس حوالے سے موثر کارروائی کے لئے سنٹرلائیزڈ مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا،اینٹوں کے بھٹے فضائی آلودگی کا بڑا سبب ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت نے ابھی تک 16 بھٹہ خشتوں کو زیگ زاگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے جبکہ اس ضمن میں مزید کام بھی جاری ہے، خیبرپختونخوا میں ادارہ تحفظ ماحولیات،صنعتی یونٹس اور ہسپتالوں میں فضلہ جات کو جلانے کے حوالے سے باقاعدگی سے مانیٹرنگ کرتا ہے۔
سیمنٹ اور سٹیل انڈسٹریز بھی فضائی آلودگی کا سبب بنتی ہیں اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے اب تک 9 سیمنٹ انڈسٹریز اور 50 سٹیل انڈسٹریز میں پالوشن کنٹرول سسٹم نصب کیا ہے، اسی طرح صوبے میں اب تک 3600 صنعتی یونٹس کی جی آئی ایس مییپنگ بھی ہوچکی ہے۔
صوبائی حکومت نے غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کی ہیں جبکہ کرش پلانٹس کو رجسٹر کرنے پر بھی کام جاری ہے،ادارہ تحفظ ماحولیات نے پشاور میں ایک لیبارٹری بھی قائم کردی ہے جس کا مقصد ائر کوالٹی اور صنعتوں سے نکلنے والے پانی کی چیکنگ ہے، ملک میں خیبرپختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کرکے پلاسٹک شاپنگ بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ آلودگی کا سبب بننے والے یونٹس کے خلاف کیسز چلانے کے لئے ادارہ تحفظ ماحولیات میں ٹربیونل بھی قائم کیا گیاہے جس نے اب تک تقریباً 3800 کیسز کو نمٹایا ہے۔
ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے طلبہ میں شعور بیدار کرنے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں گرین کلبز بنائے گئے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے شعور کی بیداری کے لئے تعلیمی نصاب میں مضمون شامل کرنے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ماحولیات، جنگلات، جنگلی حیات اور موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے گزشتہ ہفتے ادارے کا دورہ بھی کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کی کارکردگی، مقاصد اور حاصل کامیابیوں پر ایک تفصیلی بریفنگ دی، معاون خصوصی پیر مصور خان نے متعلقہ افسران کو آلودگی کا باعث بننے والے عوامل کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنے کے احکامات بھی جاری کئے، انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورکی قیادت میں ماحول کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔