خیبرپختونخوا: باجوڑ میں فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس افسر جاں بحق ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دنیا بھر میں صرف پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک ہیں، جہاں پولیو باقی ہے جبکہ عسکریت پسند کئی دہائیوں سے ویکسینیشن ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں پولیو دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، اس سال اب تک 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال 2024 میں کم از کم 74 بچے پولیو سے متاثر ہوئے، جن کی تعداد 2023 میں 6 رہی تھی۔
باجوڑ ضلع کے ایک پولیس افسر نیاز محمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2 موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، تاہم پولیو ٹیم محفوظ رہی۔
ضلع باجوڑ کی افغانستان کے ساتھ 52 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔
ایک سینئر پولیس اہلکار وقاص رفیق کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ضلع میں پولیو مہم کے آغاز میں تاخیر ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے باوجود جائے وقوعہ کے علاوہ (ضلع کے) تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔
پولیو زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے اور بعض اوقات عمر بھر کے فالج کا سبب بنتا ہے لیکن انسداد پولیو کے قطرے استعمال کرنے سے اسے آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔