امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور کرالی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے امریکی حکومت کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کی 2 قراردادوں پر ووٹنگ میں روس کا ساتھ دیا۔
دونوں ممالک نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کی مخالفت کی تھی جس میں یوکرین میں ماسکو کی جانب سے جنگ کی مذمت کی گئی تھی، اس کے بعد یو این ایس سی میں امریکی حمایت یافتہ قرارداد منظور کرلی گئی، جس میں تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد میں روس کو جارح قرار دینے یا یوکرین کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا ہے، امریکا کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں رکھنے والے برطانیہ اور فرانس کے علاوہ روس اور چین نے دوسری رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، اسی طرح غیر مستقل ارکان ڈنمارک، یونان اور سلووینیا نے بھی ایسا ہی کیا۔
یوکرین پر روس کے حملے کی تیسری برسی کے موقع پر ہونے والی یہ ووٹنگ ایک بار پھر مغربی اتحادیوں کے درمیان گہری تقسیم کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی حمایت کو ختم کر دیا ہے، جو دیرینہ خارجہ پالیسی سے انحراف کا اشارہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کیف اور یورپ کو ایک طرف کر دیا ہے، کیونکہ امریکا نے ممکنہ امن معاہدے پر ماسکو کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔
یورپی حمایت یافتہ قرارداد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 93 ووٹوں سے منظور کیا گیا تھا، جس میں روسی فیڈریشن کی جانب سے یوکرین پر جاری مکمل حملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، یوکرین، علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے اس کے تباہ کن اور دیرپا نتائج پر روشنی ڈالی گئی تھی۔
جنرل اسمبلی میں یورپی قرارداد میں یوکرین کی سرزمین سے روس کے مکمل اور غیر مشروط انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، فوری جنگ بندی اور تنازع کے پرامن حل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد میں روسی جارحیت یا یوکرین کی علاقائی سالمیت کا حوالہ شامل نہیں کیا گیا، بیان میں تنازع کے فوری خاتمے پر زور دیا گیا اور بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے میں اقوام متحدہ کے کردار پر زور دیا گیا۔
امریکی چارج ڈی افیئرز ڈوروتھی شیا نے قرارداد کی منظوری کو تنازع کے خاتمے کی جانب ’اہم پہلا قدم‘ قرار دیا۔
یوکرین کی نائب وزیر خارجہ ماریانا بیتسا نے کہا کہ ہمیں اس بات کی دوبارہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ جارحیت کی مذمت کی جانی چاہیے، نا کہ انعام دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا ہے کہ امن کا مطلب یوکرین کے ہتھیار ڈالنا نہیں ہو سکتا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات نے بحر اوقیانوس میں دراڑ پڑنے کے خدشے کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا ہے۔
یوکرین کو تعمیر نو کیلئے 524 ارب ڈالر درکار
عالمی بینک، اقوام متحدہ، یورپی کمیشن اور یوکرین کی حکومت کی ایک نئی تحقیق کے مطابق یوکرین کی معیشت کی تعمیر نو کی تخمینہ لاگت 524 ارب ڈالر ہے، جو 2024 کی متوقع اقتصادی پیداوار سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔
اس رپورٹ کے نتائج میں تین سال قبل 31 دسمبر 2024 تک روس کے حملے کے اعداد و شمار شامل تھے۔
ان میں روسی حملوں سے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات میں 70 فیصد اضافہ بھی شامل ہے۔
ایک سال قبل 486 ارب ڈالر کے آخری تخمینے کے مقابلے میں 7 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جس میں ہاؤسنگ، ٹرانسپورٹ، توانائی، کامرس اور تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے ہیں۔
انہوں نے ایک مشترکہ پریس ریلیز میں کہا کہ اس مطالعے میں عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو براہ راست جسمانی نقصان، لوگوں کی زندگیوں اور معاش پر پڑنے والے اثرات اور بہتر تعمیر کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔