ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث 100 ٹیکسٹائل یونٹ بند ہوچکے ہیں ،چیئرمین اپٹما
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا ہے کہ ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث 100 ٹیکسٹائل یونٹ بند ہوچکے ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق جاری بیان میں چیئرمین اپٹما کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی40 فیصد پیداوارکم ہوچکی ہے، بے تحاشا ٹیکسوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔
چیئرمین اپٹما نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف یونیو (ایف بی آر) میں 182 ارب روپے کے سیلزٹیکس ریفنڈز رکے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا فاسٹر سسٹم بند ہوچکا ہے، پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی 12 سینٹ فی یونٹ میں فراہم کی جارہی ہے، گزشتہ دو برس میں ٹیکسٹاِل انڈسٹری کاگیس ٹیرف 1100 سے بڑھ کر 3500 روپے ایم ایم بی ٹی یو کردیا گیا ہے۔
چئیرمین اپٹما نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پر 5 فیصد لیوی عائد کی گئی ہے، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز پر مساوی کارپوریٹ انکم ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا ہے، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو نارمل ٹیکس رجیم میں لایا گیا ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ ایکسپورٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز پر 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لگایا گیا ہے، ایکسپورٹرز پر دوہرے ٹیکسز لگا دیے گئے ہیں۔
چیئرمین اپٹما کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرزمجموعی طور پر135فیصد ٹیکس ادا کر رہے ہیں، مہنگی بجلی کی وجہ سے مقامی مینوفیکچرنگ غیرمسابقتی ہوچکی ہے۔
کامران ارشد نے بتایا کہ مقامی اور درآمدی انڈسٹری میں سیلز ٹیکس کا فرق ختم کیا جائے، ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کو 2024کے طریقہ کار پر بحال کیا جائے۔
چیئرمین اپٹما کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹرز کو مقامی سپلائیز پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، برآمدی شعبوں کے لیے زیرو ریٹنگ کی بحالی کی جائے، ٹیکسٹائل ویلیو چین کے لیے سیلز چھوٹ بحال کی جائے۔