کراچی: کورنگی میں بورنگ کے دوران مبینہ گیس لیکیج سے لگنے والی آگ بےقابو، بجھانے کی کوششیں جاری
کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ کے قریب گزشتہ رات خالی پلاٹ پر پانی کے لیے بورنگ کرتے ہوئے مبینہ طور پر گیس لیکیج سے آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جسے بجھانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آگ ریفائنری کے قریب گیس پائپ لائن میں لگی، کئی گھنٹوں کے آپریشن کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
کراسنگ کے قریب خالی پلاٹ پر مشینری کے ذریعے پانی کی بورنگ کے لیے 1100 فٹ کے قریب بورنگ کی جاچکی تھی، اس دوران گیس لیکیج کا شبہ ہونے پر عملے نے ریسکیو اداروں کو اطلاع دی اور اطلاع دینے کے کچھ ہی دیر بعد لیکیج کے مقام پر آگ بھڑک اٹھی اور شعلے آسمان پر بلند ہونے لگے۔
ریسکیو کے مطابق ریسکیو 1122، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور پی آر ال کے 20 سے زائد فائر بریگیڈ ٹرک آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
سندھ کے وزیر بحالی مخدوم محبوب زمان نے ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عابد جلال الدین شیخ کو عملے سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
مخدوم محبوب زمان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اہلکار آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایمبولینس اور رضاکار جائے وقوعہ پر موجود ہے۔
مزید بتایا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ ہفتہ کی رات 9 بج کر 50 منٹ تک آگ نہیں بجھائی جاسکی۔
ترجمان کورنگی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آگ کورنگی کریک میں زیر زمین پانی کی کھدائی کے دوران لگی۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کورنگی طارق نواز، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لانڈھی اور زمان ٹاؤن تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) غلام نبی آفریدی جائے وقوعہ پر پہنچے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آگ کی شدت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث ضلع کورنگی کے تمام قریبی تھانوں کے ایس ایچ اوز کو اضافی نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر طلب کرلیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی ٹیمیں بھی وہاں موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایس ایس پی کورنگی آگ بجھانے کے عمل کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق اب تک آگ تقریباً 400 مربع گز تک محدود ہے،کیونکہ وہاں کوئی انسانی بستی موجود نہیں ہے اس لیے ابھی تک کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 نے ڈان کو بتایا کہ کے ایم سی کی فائر بریگیڈ اور آئل ریفائنری نے بڑی مقدار میں پانی اور فوم کا استعمال کیا لیکن آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ایس جی سی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے ماہرین نے علاقے کی زمین کی جانچ کرکے نمونے حاصل کر لیے، جن کے نتائج پانچ سے چھ گھنٹے کے اندر آنے کی توقع ہے، تاکہ آتشزدگی کی وجوہات معلوم ہوسکیں۔
ڈی جی ریسکیو 1122 کا مزید کہنا تھا کہ زیر زمین تیل یا گیس کے ’کچھ ڈپازٹس‘ کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا جو ایک ہاؤسنگ اسکیم کے لیے ساحلی علاقے میں کھدائی کے کام کے دوران سامنے آئے۔
ایس ایچ او زمان ٹاؤن نے ڈان کو بتایا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور پی پی ایل دونوں نے کہا ہے کہ آس پاس کے علاقے میں ان کی کوئی لائن نہیں ہے۔
تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ وہاں ایک آئل ریفائنری کی لائن ہے،- جو خام تیل کے زیر زمین ذخائر کے امکان کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں آگ بھڑک اٹھی۔
فائر فائٹرز کی جانب سے آگ بجھانے کی کئی گھنٹے تک کوشیش کی گئیں لیکن آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا، آگ کس شے میں میں لگی؟ کون سی گیس لیک ہوئی ہے؟ یا کون سی لائن گزر رہی ہے، اس حوالے سے اب تک کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔
گورنر سندھ کی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کی ہدایت
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کورنگی میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کمشنر کراچی سید حسن نقوی سے فون پر رابطہ کیا، اور کہا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں، ہیلی کاپٹر کی فوری فراہمی ممکن بنائیں۔
گورنر سندھ نے چیف فائر افسر اور موقع پر موجود انجینیر سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو آگ بجھانے کے لیے ہر ممکن سہولت دی جانی چاہیے۔