وہ طاقت ہے کہ سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں بن سکتا، مراد علی شاہ
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ طاقت ہے کہ سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں بن سکتا، وقت آنے پر اس طاقت کا اظہار بھی کریں گے۔
کراچی میں صوبائی وزرا شرجیل میمن اور جام شورو کے ہمراہ سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے اہم پانی کا معاملہ ہے، انڈس ریور سسٹم میں پانی کی کمی کا مکمل ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے، نگران حکومت میں واپڈا اسٹڈی کرتی ہے اور وہ عجیب قسم کی اسٹڈی ہے کہ دیامر باشا ڈیم بننے کا بعد 60 لاکھ ایکڑ پانی ملے گا، نگران حکومت نے بھی اس بات پر اعتراض کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے کچھ دن بعد پنجاب حکومت ایک کینال نکالنے کی تجویز دیتی ہے، دریائے چناب سے پانی لیں گے، چولستان کینال بنانے کا کہا جس پر ہمیں اعتراض ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطابق 27 ایم ایف پانی ڈیلٹا میں جارہا ہے تو ہمارا ڈیلٹا سرسبز ہونا چاہیے، ایکنک میں 6 کینال کا پروجیکٹ لایا گیا جس میں بھی ہم نے اعتراض کیا، ارسا کے اس منصوبے پر ہم مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں بھی مخالفت کریں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے کہا گیا کہ اضافی زمین آباد کرنا چاہتے ہیں جس پر صدر نے کہا اگر صوبوں کو اعتراض نہیں تو کریں، اس اجلاس کے منٹس بھی غلط بنائے گئے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کینال بنا سکتے ہیں، ارسا نے پانی کا سرٹیفکیٹ ہی غلط دیا ہے، ایک تو پانی دریا میں ہے ہی نہیں، پنجاب حکومت کے مطابق اپنا حصے کا پانی چولستان کینال میں شامل کیا جائے گا، کیا پنجاب کے ان کسانوں اور چیف انجینئر سے پوچھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم کا بھی لوگ کہتے تھے بن رہا ہے، اب یہی صورتحال چولستان کینال پر کی جارہی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے، وہ طاقت ہے کہ سندھ کے مفاد کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں بن سکتا اور وقت آنے پر اس طاقت کا اظہار بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کا بھی سوچنا ہے اور یہ بات واضح ہے ہم کسی صورت کینالز بننے نہیں دیں گے، آئین اور قانون کی مدد سے ہم کینالز بننے نہیں دیں گے، عوام ہمارے ساتھ ہے اور ہم اپنے لوگوں کے حق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔