لاہور: ای او بی آئی افسر کو جونیئر افسر کی کرپشن پکڑنے پر تبادلے کا تحفہ
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) کے ایک سینئر افسر کی جانب سے جونیئر افسر کی کرپشن پکڑنے پر تبادلے کا تحفہ دے دیا گیا، سینئر افسر نے مبینہ طور پر ایک جونیئر افسر کو اپنے دفتر میں فیکٹری کے نمائندے سے نقدی وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1976 میں وفاقی حکومت کا محکمہ ای او بی آئی قائم کیا تھا، جس کا مقصد ملک بھر میں نجی شعبے کے ملازمین کو پنشن سے متعلق فوائد فراہم کرنا تھا۔
یہ ادارہ ماضی میں تنازعات اور بدعنوان طریقوں سے دوچار رہا ہے، جس میں ایک میگا رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری اسکینڈل بھی شامل ہے، جس کے لیے ایک سابق چیئرمین اور کچھ اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق شیخوپورہ ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو ای او بی آئی قانون کے تحت دیے گئے عطیات کے آڈٹ میں بے قاعدگیوں کو نظر انداز کرنے پر اپنے (ای او بی آئی) دفتر کے احاطے میں آجر کے نمائندے سے بھاری نقد رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
رپورٹر کے پاس موجود ایک ویڈیو کلپ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کو نقد رشوت لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) لاہور محمد فاروق طاہر نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس معاملے کی اطلاع ای او بی آئی کراچی کے قائم مقام چیئرمین جاوید شیخ کو مزید کارروائی کے لیے دی۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین جاوید شیخ نے مبینہ کرپشن کیس کی مناسب تحقیقات کرنے کے بجائے فاروق طاہر کا تبادلہ کردیا۔
جب ان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تبادلے انتظامی معاملہ ہے، اور ای او بی آئی کے تمام افسران وقف ملازمین ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فاروق طاہر کو ای او بی آئی کے نیم عدالتی فورم ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔