• KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am

حکومت کیخلاف مشترکہ احتجاج کے معاملے پر پی ٹی آئی سے تحریری یقین دہانی چاہتے ہیں، کامران مرتضیٰ

شائع March 30, 2025
— فائل فوٹو: ڈان
— فائل فوٹو: ڈان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ عید الفطر کے بعد حکومت مخالف مشترکہ احتجاج سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے پی ٹی آئی سے تحریری یقین دہانی کی ضرورت ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق روں ہفتے کے آغاز میں سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رعایت نہ ملنے پر تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ وہ عید الفطر کے تینوں دن اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرے گی۔

علاوہ ازیں، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی عید الفطر کے بعد حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر ملک گیر احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بدعنوانی کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک کا اعلان کیا تھا۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں میزبان نادر گرمانی کو انٹریو دیتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا ’ہم چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو تحریری طور پر دستاویزی شکل دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی غلط فہمی سے بچا جاسکے اور ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کے امکان کو ختم کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے حاصل کرنے کا عمل عید کے بعد ہی شروع کیا جاسکتا ہے کیونکہ مجھ سمیت پارٹی کے دیگر افراد پہلے ہی چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر محمد ہمایوں مہمند نے کامران مرتضیٰ کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ معاہدوں کو تحریری شکل میں لکھنا بھی سنت ہے۔

دونوں سینیٹرز نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان ان کی ماضی کی وجہ سے ’اعتماد کے مسائل‘ موجود ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہورہے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ احتجاج کا مقام ڈی چوک یا کوئی اور جگہ ہو سکتی ہے جس کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جا سکتا ہے جب کہ احتجاج کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ احتجاج کریں گے یا علیحدہ کریں گے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ احتجاج چاہے الگ ہو یا مشترکہ لیکن یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ حکومت مخالف احتجاج ضرور ہوگا۔

16 مارچ کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تناؤ کم ہورہا ہے جس سے ممکنہ اتحاد کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور پی ٹی آئی خیبر پختونخوا چیپٹر کے سربراہ جنید اکبر نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پارٹی کارکن عید الفطر کے تینوں دن اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت حزب اختلاف کی اہم جماعت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو حکومت کو پہلا قدم اٹھانا ہوگا اور مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد میں سب کچھ مثالی نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025