پہاولپور: 11 سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث 4 رشتے دار مبینہ مقابلے میں ہلاک
بہاولپور کے نواحی علاقے میں 24 مارچ کو 11 سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل میں اس کے 2ماموؤں سمیت 4 رشتے دار ملوث نکلے، چاروں ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔
ڈان نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو مال مقدمہ کی برآمدگی کے لیے لے جایا رہا تھا کہ وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آگئے ۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان کی شناخت عمر، انس،کامران اور محمود کے نام سے ہوئی ہے، تھانہ صدر کی پولیس ملزمان کو مال مقدمہ کی برآمدگی کے لیے جا رہی تھی کہ ملزمان کو چھڑانے کے لیے ان کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے فائرنگ رکنے کے بعد دیکھا تو 4 ملزمان ہلاک ہو چکے تھے جبکہ ملزمان کے ساتھی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔
قبل ازیں، ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق صدر پولیس کے ایس ڈی پی او آغا فصیح الدین نے اتوار کو میڈیا کو بتایا تھا کہ پولیس کی ٹیموں نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جیو فینسنگ کی مدد سے مجرموں کا سراغ لگایا۔
ایس ڈی پی او نے بتایا تھا کہ ڈی پی او اسد سرفراز خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک ایجنسی کے اہلکاروں کی مدد سے فوری طور پر جائے وقوعہ کا محاصرہ کیا اور ملحقہ 50 گھروں کی تلاشی لی۔
محاصرہ زدہ گھروں کے خاندان کے ہر رکن کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی، 50 گھروں کے فیملی ممبرز میں سے 25 ارکان کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، مختلف گھروں سے تعلق رکھنے والے 25 افراد سے پوچھ گچھ کے بعد 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ لاہور بھیجے گئے۔
ڈی این اے کے عمل کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود ان ملزمان سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا اور ڈی این اے کے نتائج موصول ہونے کے بعد 4 مشتبہ افراد کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا، اب انہیں جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ڈان کو معلوم ہوا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد ملزمان نے تفتیشی افسر (آئی او) کے سامنے اپنے ابتدائی بیان میں جرم کا اعتراف کیا۔
اپنے اعترافی بیان کے مطابق، چاروں ملزمان نے کہا کہ انہوں نے 11 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری کی اور پھر اپنی ہولناک حرکت کو چھپانے کے لیے اسے سورج مکھی کے پھولوں کے کھیتوں میں قتل کر دیا۔
یہ لڑکی بہاولپور شہر کے مضافاتی علاقے بستی باقر پور میں قریبی ہینڈ پمپ سے پانی لانے کے لیے گھر سے باہر گئی تھی۔
صدر پولیس نے متاثرہ کی ماں کی شکایت پر مقدمہ درج کیا، اس کی پوسٹ مارٹم جانچ کی ابتدائی رپورٹ میں بھی عصمت دری کی تصدیق ہوئی تھی۔