• KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am
  • KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am

چاہے کچھ بھی ہو، عمران خان پارٹی سربراہ رہیں گے، شاہ محمود قریشی

شائع August 8, 2023
شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’جو بھی ہو جائے‘ عمران خان پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے چیئرمین کی غیر موجودگی میں پارٹی کے معاملات کو دیکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان پارٹی کے سربراہ رہیں گے چاہے جو بھی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کی بنیاد ڈالی ہے اور بانی ہونے کے ناطے وہ ہمیشہ پارٹی کے سربراہ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت میاں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں، لیکن پارٹی کو نواز شریف اس کے قائد کے طور پر چلا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے ارکان شعیب شاہین، نعیم پنجوتھا کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میٹنگ کا مقصد قانونی مقاصد کے لیے پاور آف اٹارنی پر دستخط کروانا اور درخواستیں دائر کرنا تھا، وفاقی کابینہ کے ارکان یہ دعویٰ کر کے جھوٹ بول رہے ہیں کہ عمران خان کو ’بی کلاس‘سہولیات دی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو وہ پروٹوکول نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جیل کو عملی طور پر ’نو گو ایریا‘ بنا دیا گیا ہے اور جیل جانے کے راستے مسدود کر دیے گئے ہیں، ہم نے اس معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

عام انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ قومی اسمبلی کو 9 اگست کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس لیے پی ٹی آئی نے 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں زیادہ سے زیادہ کہوں گا کہ عام انتخابات کے انعقاد میں 120 دن لگنے چاہئیں، مزید کہا کہ پی ٹی آئی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگراں حکومتوں کی توسیعی مدت کو چیلنج کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے پارٹی چیئرمین کو ’تشویش ناک حالات‘ میں قید رکھنے پر حکومت کی مذمت کی۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو ان کے پارٹی عہدے سے ہٹانے پر بات کرنے کے لیے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اے کلاس میں منتقلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی قانونی ٹیم، اہل خانہ، معالج فیصل سلطان اور سیاسی معاونین کو روزانہ کی بنیاد پر جیل جانے کی اجازت بھی مانگی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے ارادے سے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا کیونکہ اڈیالہ جیل میں اے کلاس کی سہولیات دستیاب ہیں، جہاں مدعا علیہان نے برابر کے افراد کو اے اور بی کلاس کی سہولیات فراہم کی ہیں، تاہم ابھی تک آئین کے آرٹیکل 25 کو نظر انداز کرتے ہوئے درخواست گزار کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025