کاربن مارکیٹ پالیسی کے قواعد کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کاربن مارکیٹ پالیسی کے قواعد کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کے گروپ پر مبنی 24 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی کاربن مارکیٹس میں تجارت کے لیے مجوزہ مسودہ کے قواعد کا جائزہ لے گی۔
ڈان نیوز کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے کاربن مارکیٹ پالیسی کے قواعد کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ماہرین کے گروپ پر مبنی ہائی پروفائل کمیٹی تشکیل دی ہے،کمیٹی کاربن مارکیٹس میں تجارت کے لیے مجوزہ مسودہ کے قواعد کا جائزہ لے گی جس کے بعد وزارت پالیسی قواعد کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دے گی۔
قواعد کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم سے منظوری لی جائے گی،کمیٹی کنوینر جوائنٹ سیکریٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی کی زیرِ صدارت 24 رکنی ممبران پر مشتمل ہے۔
کمیٹی ممبران میں جوائنٹ سیکریٹری وزارت تجارت، وزارت خزانہ سے بھی نمائندہ شامل ہیں، جبکہ کمیٹی میں چاروں صوبوں کے پلاننگ کمیشن سے بھی نمائندے شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، کمیٹی میں کاربن مارکیٹ ماہرین، کلائمٹ فنانس آفیسر، اے ڈی بی، ورلڈ بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں،کمیٹی میں سینیئر ماہر معاشیات سمیت نجی سیکٹر کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
پس منظر
واضح رہے کہ کاربن کے اخراج کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی عالمی ماحول کے لیے شدید نقصان کا باعث بن رہی ہے، عالمی سطح پر آلودگی پھیلنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں جن کے نتائج طاقتور سمندری طوفانوں، زلزلوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 2023 کو اب تک کا ’گرم ترین سال‘ قرار دیا گیا تھا، اقوام متحدہ نے رواں سال مارچ میں انتباہ جاری کیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار اندازوں سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔
پاکستان کی کاربن پالیسی کے تحت ’گرین پروجیکٹس‘ میں جنگلات، توانائی، ویسٹ منیجمنٹ کے منصوبے شامل کیے جائیں گے، ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان عالمی کاربن مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ کریڈٹ لے سکے گا۔
پاکستان کی کاربن مارکیٹ میں حصہ ڈالنے کی پوری صلاحیت ہے، ملک میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے متعدد منصوبے زیر عمل ہیں، باکو میں ہونے والی کوپ 29 کانفرنس میں عالمی سطح پر کاربن کریڈٹ مارکیٹ کے رولز کو حتمی شکل دی گئی تھی۔