موسمیاتی تبدیلی: پاکستان کیلئے 50 کروڑ ڈالر جمع کرنے کو تیار ہیں، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اصلاحات کو تیز کرنے کے علاوہ سیاسی اور میکرو اقتصادی استحکام کے لیے کوششیں کرے تاکہ نجی شعبے کی ترقی کے امکانات کھل سکیں، سرمایہ کاری، جی ڈی پی کے تناسب کو دوگنا کیا جا سکے اور طویل مدت میں خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایف سی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرنے اور کم کاربن والی معیشت میں منتقلی میں مدد کے لیے برطانیہ کے تعاون سے تقریباً 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالر جمع کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کے 2 روزہ دورے سے قبل آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ ان کا ادارہ مینوفیکچرنگ، سروسز، پائیدار انفرااسٹرکچر کی ترقی، ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کے شعبے میں اعلیٰ سرمایہ کاری تعاون پر غور کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی مختلف شعبوں میں اعلیٰ اثرات کے مواقع پر توجہ مرکوز کرے گی، مینوفیکچرنگ اور خدمات میں ہم زراعت، آبی زراعت، کارپوریٹ فارمنگ، پیچیدہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو ہدف بنائیں گے، بینکوں کے لیے ہمارا مقصد مالی شمولیت کو بڑھانا اور زرعی قرضوں کو مضبوط بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کلیدی ترجیحات میں پائیدار بنیادی ڈھانچہ، ماحول دوست عمارتیں، اور خاص طور پر ٹیلی کام کے شعبے میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی سے لیس اسٹارٹ اپس، خاص طور پر خواتین کی قیادت والے اسٹارٹ اپس اور تعلیم اور ہیلتھ ٹیک میں کام کرنے والوں کے لیے وینچر کیپیٹل کی حمایت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں مختار ڈیوپ نے کہا کہ پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سمیت سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں، دنیا کا نواں سب سے بڑا لیبر سیکٹر اور 30 سال سے کم عمر کے ہر 3 میں سے 2 کارکنوں کے ساتھ، پاکستان میں ایک نوجوان، متحرک، ٹیکنالوجی سے واقف افرادی قوت موجود ہے، ڈیجیٹل تبدیلی سے 2030 تک 60 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے اور پاکستان دنیا کی ساتویں سب سے بڑی کنزیومر مارکیٹ بن جائے گا۔
مختار ڈیوپ نے کہا کہ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز، زراعت اور گلوبل ویلیو چینز سے متعلق خدمات میں امکانات کا بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اس صلاحیت کو محسوس کرنے کے لیے مضبوط سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے مستقل پالیسیاں، میکرو اکنامک اور سیاسی استحکام، آئی ایم ایف پروگرام کی تعمیل اور قرضوں کو فروغ دینے کے لیے مالیاتی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز
مختار ڈیوپ نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنا اور خواتین کی لیبر فورس میں شرکت، جو اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سے کم 25 فیصد ہے، بھی انتہائی اہم ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی نے سرمایہ کاری میں 3 گنا اضافہ کیا ہے جس سے تجارت، پیداواری صلاحیت اور ماحولیات کی لچک میں اضافہ ہوا ہے، اس سے خواتین کے لیے مواقع پیدا ہوئے اور 50 ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے بالخصوص نجی شعبے کی زیر قیادت ترقی کے لیے پالیسی، ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح اعلیٰ اثر والے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے جو حقیقی فرق پیدا کرتے ہیں جیسے فنانس تک رسائی کو بڑھانا، خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے، پاکستان کے تجارتی مالی خسارے کو ختم کرنا اور کیپیٹل مارکیٹوں کو گہرا کرنا ہے۔
مختار ڈیوپ نے کہا کہ آئی ایف سی نے سرمائے کو متحرک کرنے اور زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہونے کے لیے کئی اہم شراکت داریوں کا آغاز کیا ہے، 2030 تک پاکستان کے 348 ارب ڈالر کی کم کاربن منتقلی میں مدد کے لیے تنظیم نے سب سے بڑی سنگل کنٹری مخلوط فنانس سہولت کا آغاز کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی مدد سے ہم آب و ہوا کی لچک اور موافقت کے لیے نجی سرمائے میں 45 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) جمع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے خواتین کی معاشی شمولیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مشاورتی معاونت بھی فراہم کی تھی اور پاکستان بزنس کونسل کے ساتھ 3 سال کے لیے سالانہ صنفی تنوع ایوارڈز کو فروغ دینے کے لیے شراکت داری کی تھی۔
اس اقدام کا مقصد ان کمپنیوں کی حوصلہ افزائی تھا جو مساوی تنخواہ، جامع کام کی جگہوں اور قیادت میں خواتین کی حمایت کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو اصلاحات میں تیزی لانا ہوگی، اور سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کے تناسب کو 13 فیصد سے بڑھا کر 25 سے 30 فیصد کرنے کا ہدف رکھنا ہوگا۔
20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی ایف سی کے سربراہ نے کہا کہ ورلڈ بینک گروپ کا پاکستان میں شمولیت کے لیے 10 سالہ فریم ورک جامع، پائیدار ترقی کے لیے ایک جرات مندانہ حکمت عملی ہے، جس میں انسانی سرمائے، نجی شعبے کی ترقی اور لچک پر توجہ دی گئی ہے۔
اس نقطہ نظر میں پائیدار اثرات کے لیے ہدف شدہ سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے، مالی سال 30 میں وسط مدتی جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کے سب سے بڑے ترقیاتی چیلنجز اور ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بچوں کی نشوونما، غربت، ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کی پائیداری سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مختار ڈیوپ کا کہنا تھا کہ ہم نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان، اڑان پاکستان اور وزیراعظم کے اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے کی حمایت کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔