ارمغان کے گھر سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے تشدد کیا گیا ہو، پولیس
کراچی پولیس کے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی ) کے ایس ایس پی انیل حیدر نے کہا ہے کہ مصطفی اغوا اور قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان سےتفتیش کا عمل جاری ہے، ارمغان کے گھر سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے تشدد کیا گیا ہو۔
ڈان نیوز کے مطابق ایس ایس پی انیل حیدر نے بتایا ہے کہ اے وی سی سی کی ٹیم گزشتہ روزملزم کےگھرگئی تھی، گھر سے کوئی ایسی چیز برآمد نہیں ہوئی جس سے ملزم نے تشدد کیا ہو، تلاش جاری ہے۔
ایس ایس پی انیل حیدر نے مزید بتایا کہ ملزم کی نشاندہی پر اس کےگھر سے کچھ چیزیں تحویل میں لی گئی ہیں جنہیں لیبارٹری میں بھجوایا جائے گا۔
انیل حیدر نے مزید کہا کہ مصطفیٰ کی قبرکشائی کے بعد لاش سے نمونے حاصل کیے جائیں گے، ان نمونوں کی رپورٹس آنے کےبعد ہی ہلاکت کی اصل وجہ معلوم ہوسکےگی، جب تک ہلاکت کی وجہ معلوم نہیں ہے تو آلہ قتل کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
ذرائع کے مطابق ملزم کےگھرکی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جارہی ہے، ملزم کا موبائل ڈیٹا ان لاک نہیں ہوسکا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے منگل کو انسداد دہشت گردی عدالت کے منتطم جج کا جوڈیشل ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ پراسیکیوشن کی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق 4 درخواستوں منظور کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2 میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں انسداد دہشتگردی عدالت نمبر 2 نے ملزم ارمغان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
کیس کا پس منظر
یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔
ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔
ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔
ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔
بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔
دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔