ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے اے ٹی سی جج سے انتظامی اختیارات واپس لے لیے گئے
سندھ ہائیکورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) کے منتظم جج کے فیصلے کے خلاف محکمہ پراسیکیوشن کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس ظفر راجپوت کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اس حوالے سے دائر کی گئی درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ عوامی مفاد اور انصاف کے لیے منتظم جج کے اختیارات کسی اور عدالت کے جج کو منتقل کیے جائیں۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے ک ہعدالتی احکامات پر ملزم ارمغان کو سندھ ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیس کے تفتیشی افسر نے اے ٹی سی کے منتظم جج کو تمام شواہد پیش کیے تھے، تاہم منتظم جج نے ملزم کی بدسلوکی کی شکایت پر جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی تھی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے سندھ ہائی کورٹ میں بھی پولیس تشدد کی شکایت کی، عدالتی ہدایت پر کمرہ عدالت میں ہی ملزم کی قمیض اتاری گئی تو ملزم کے جسم کے بالائی حصے پر کسی چوٹ کے نشانات نہیں تھے۔
میڈیکو لیگل افسر کی رپورٹ کے مطابق ملزم کے جسم کے نچلے حصے، ماتھے ،کان اور گردن پر چند نشانات تھے، تاہم میڈیکو لیگل افسر کی رپورٹ میں اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ وہ نشانات پولیس تشدد کے باعث ابھرے۔
تفتیشی افسر کے مطابق دس فروری کو دوپہر بارہ بجے منتظم جج کے پاس کسٹڈی پیش کی، منتظم جج نے تفتیشی افسر کو 3 گھنٹے انتظار کروایا، منتظم جج نے تفتیشی افسر کو ملزم کے میڈیکل معائنے کے زبانی احکامات دیے، منتظم جج کے پاس ملزم کے مختصر ریمانڈ کا مناسب طریقے کار موجود تھا، منتظم جج ملزم کے پولیس ریمانڈ کے ساتھ میڈیکل معائنے کا حکم دے سکتے تھے۔
میڈیکل رپورٹ میں تشدد کے شواہد کے بعد قانون کے مطابق تفتیشی افسر کے خلاف کاروائی کی جاسکتی تھی، میجسٹریٹ اور منتظم ججز کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ہائیکورٹ کو جواب دہ ہیں، منتظم جج کے احکامات ہاتھ سے نہیں لکھے گئے بلکہ ٹائپ شدہ تھے۔
عدالت عالیہ کے تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ منتظم جج نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کا حکم دیا، بعد میں وائٹو لگا کر ریمانڈ کو جوڈیشل کسٹڈی لکھا گیا۔
قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ریمانڈ کے وقت ملزم کا باپ منتظم جج کے چیمبر میں موجود رہا، کسی بھی فریق نے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی درخواست نہیں کی تھی، منتظم جج کے پاس ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
عدالتی رائے میں منتظم جج کا پولیس ریمانڈ کی جگہ جوڈیشل ریمانڈ کا فیصلہ غیر قانونی ہے، جے آئی ٹی بنانے کا منتظم جج کا فیصلہ دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔
عدالت نے منتظم جج کے اختیارات واپس لینے کے لیے حکم نامے کی کاپی قائم مقام چیف جسٹس اور سیکریٹری داخلہ سندھ کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔
قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی نے کہا کہ 2 رکنی بینچ نے ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزامات کے بعد انتظامی جج سے اختیارات واپس لینے کی سفارش کردی ہے، ایسے جج کو عہدے پر رہنے کا اختیار نہیں ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ ہائی کورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف پولیس کی اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ملزم کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے کے خلاف پولیس کی اپیل پر سماعت کی تھی۔
عدالت عالیہ میں دوران سماعت قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی، کیس کے تفتیشی افسر سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ مصطفیٰ عامر کے اغوا کا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے منتظم جج نے ریمانڈ رپورٹ نہیں پڑھی تھی کیا؟ پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہا کہ 10 فروری کے بعد دوسری درخواست 11 فروری کو بھی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دی گئی تھی، ٹرائل کورٹ ہمیں ریمانڈ آرڈر کی سرٹیفائیڈ کاپی تک نہیں دے رہی۔
دوسری بار اسی حوالے سے سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے عدالت عالیہ کو بتایا تھا کہ اے ٹی سی کے منتظم جج نے پہلے ملزم ارمغان کا ریمانڈ دینے کا حکم ٹائپ کیا تھا، بعد میں جلد بازی میں اس پر وائٹو لگا کر ’جوڈیشل کسٹڈی‘ لکھا گیا۔