کراچی میں رواں سال والدین نے 41 ہزار 800 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا
کراچی میں رواں سال کے دوران والدین نے 41 ہزار 800 سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ میں شائع صوبائی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں انکار کے 42 ہزار 999 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے کراچی کا حصہ 41 ہزار 875 ہے، سندھ کے باقی اضلاع میں انکار کرنے والوں کی تعداد صرف 1124 ہے۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ قطرے پلانے سے انکار کے 97 فیصد سے زائد کیسز کیسز کے ساتھ کراچی پولیو کے خلاف جنگ میں ایک اہم میدان جنگ بنا ہوا ہے اور حکومت اس وقت شہر کی 27 ہائی رسک یونین کمیٹیوں میں ویکسین کی قبولیت کو بڑھانے اور عوامی صحت کے اقدام پر کمیونٹی کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوششوں میں مصروف ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے صوبائی کوآرڈینیٹر ارشاد علی سودھر نے کہا کہ انکار کے کیسز بچوں کی کُل اہل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ملک کے سب سے بڑے اور گنجان آباد شہر کی حیثیت سے کراچی پولیو کے خاتمے کے لیے سب سے اہم علاقوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مسلسل نشاندہی اور قطرے پلانے سے انکار کی بڑی تعداد ہے، انہوں نے شہر میں آبادی کی مسلسل نقل و حرکت کو ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی کی اہم وجہ قرار دیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بار بار ویکسی نیشن کی کوششوں کے باوجود منتقلی کے خطرات زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے قوت مدافعت کے خلا کو پُر کرنے اور بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ مہمات ناگزیر ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ 80 سے زیادہ ہائی رسک یوسیز ہیں جن میں سے 27 کو پہلے مرحلے میں ہدف بنایا جا رہا ہے۔
ارشاد علی سودھر کے مطابق محکمے نے قطرے پلانے سے انکار کے بڑھتے کیسز کا مسئلہ حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، اس میں کمیونٹی اور اہم اسٹیک ہولڈرز کی مشغولیت شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’فروری 2025 میں کراچی میں حفاظتی ٹیکوں کی قومی مہم کے دوران 2799 صحت مراکز کی نقشہ کشی کی گئی تھی جو کہ اس مہم کی حمایت میں فعال طور پر مصروف عمل رہے جبکہ 2 ہزار 900 سے زیادہ اسکولوں اور مدارس نے بچوں اور والدین کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مساجد کو خطبات اور باجماعت نمازوں کے دوران پیغامات پھیلانے میں بھی مصروف رکھا گیا تھا، ویکسی نیشن کی وکالت کرنے کے لیے کُل 3 ہزار 442 بااثر افراد (بشمول اساتذہ، اسکالرز اور کمیونٹی رہنماؤں) کو متحرک کیا گیا تھا۔
ای او سی کے صوبائی کوآرڈینیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کوششوں سے انکار پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور پولیو کے خاتمے کے اقدام پر کمیونٹی کا اعتماد مضبوط ہوگا۔
حالیہ برسوں میں انکار کے معاملوں میں نمایاں کمی کے بارے میں پوچھے جانے پر ارشاد علی سودھر نے کہا کہ 5 سال پہلے اس طرح کے کیسز کی تعداد تقریباً 90 ہزار سے ایک لاکھ تھی۔
ای او سی حکام کے مطابق شراکت داروں کے تعاون سے 22 فروری سے شروع ہونے والی ہفتہ وار مہم کراچی میں 8 ماہ کے دوران دوسری مہم ہے جس کا مقصد 5 سال سے کم عمر کے 5 لاکھ 62 ہزار 163 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور 4 ماہ سے 5 سال سے کم عمر کے 5 لاکھ 21 ہزار 953 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔
ای او سی عہدیدار نے کہا کہ ایف آئی پی وی کے لیے جیٹ انجیکٹر ٹیکنالوجی کے استعمال نے بچوں کے لیے سوئی سے پاک، تناؤ سے پاک تجربے کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’او پی وی اور ایف آئی پی وی کا امتزاج قوت مدافعت کو مزید مضبوط کرتا ہے، جس سے ان علاقوں میں اضافی تحفظ فراہم ہوتا ہے جہاں وائرس گردش کرتا رہتا ہے، اگست 2024 میں کراچی میں ایف آئی پی وی مہم کامیابی سے چلائی گئی‘۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ویکسینیٹرز کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بچوں کو او پی وی اور ایف آئی پی وی دونوں خوراکیں ملیں، ہر ویکسین ہمیں پولیو سے پاک مستقبل کے قریب لاتی ہے۔