صدر مملکت آصف علی زرداری کی طبیعت ناساز، نوابشاہ سے کراچی منتقل
صدر مملکت آصف زرداری کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے جس کے باعث انہیں نوابشاہ سے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق صدر مملکت آصف زراری کی طبیعت گزشتہ رات خراب ہوئی تھی جس کے بعد انہیں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔
صدر آصف زرداری گزشتہ روز انفیکشن اور بخار میں مبتلا ہوئے تھے جس کے باعث وہ زرداری ہاؤس نوابشاہ میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں عید بھی نہیں مل سکے تھے۔
صدر آصف زرداری کو گزشتہ رات کراچی منتقل کیا گیا تھا جہاں کلفٹن میں واقع نجی ہسپتال میں ان کا علاج جاری ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات سنبھال لیے ہیں۔
وزیراعظم کا صدر مملکت سے رابطہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے علیل ہونے پر ان سے رابطہ کرکے ان کی مزاج پرسی اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ صدر آصف زرداری کو صحت کاملہ عطا کریں، انہوں نے صدر مملکت سے کہاکہ پوری قوم کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
دریں اثنا، سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے صدر کے معالج ڈاکٹر عاصم حسین کو فون کیا اور زرداری کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
صدر مملکت کو صحت کے مسائل کا سامنا
69 سال کی عمر میں، صدر کو حالیہ برسوں میں متعدد صحت کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
صدر آصف علی زرداری اکتوبر 2024 میں ہوائی جہاز سے اترتے ہوئے پاؤں میں فریکچر کروا بیٹھے تھے۔ گرنے کے بعد انہیں فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے ان کے پاؤں پر پلاسٹر چڑھایا۔
مارچ 2023 میں، انہوں نے متحدہ عرب امارات میں آنکھوں کی سرجری کروائی۔
2022 میں، انہیں سینے کے انفیکشن کے علاج کے لیے کراچی کے ڈاکٹر ضیاء الدین ہسپتال میں ایک ہفتے کے لیے داخل کرایا گیا تھا۔ خراب صحت کی افواہوں کے درمیان، ان کے ذاتی معالج اور قریبی معاون ڈاکٹر عاصم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ ان کی صحت اچھی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے بیٹے اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق، جولائی 2022 میں ان کا کووڈ-19 ٹیسٹ مثبت آیا تھا لیکن انہیں صرف ’ ہلکی علامات’ ظاہر ہوئی تھیں۔
اس سے ایک سال قبل، صدر زرداری کو اپنی بار بار کی سفری مصروفیات کی وجہ سے ’ محنت اور تھکن’ کی وجہ سے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔