پاکستان نے جن ممالک کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات کا آغاز کیا ان میں کیریبین جزیرہ سینٹ لوشیا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، مارشل آئی لینڈ، ڈومینیکا، جمہوریہ ڈومینیکن اور جمہوریہ کریباتی شامل ہیں۔
پاکستان، بھارت دونوں اقوام متحدہ میں ایشیا پیسیفک گروپ کے رکن ہیں، 2019 میں پاکستان نے بھارت کی حمایت کی، اب بھارت کی جانب سے پاکستان کی حمایت کی توقع ہے۔
پاکستان کو مبینہ طور پر میزائل کے پرزے فراہم کرنے والی کمپنیوں پر عائد حالیہ پابندیوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ تناؤ کے بارے میں امریکا نے خدشات کو دور کردیے۔
مذاکرات نئے قرض پروگرام اور آئندہ مالی سال کے بجٹ پروپوزل پر ہوں گے، آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام 3 سال سے زائد مدت کیلئے ہونے کا امکان ہے، وزیرخزانہ
فنڈ کے ساتھ پاکستان کا 24 واں 3 سالہ مجوزہ پیکج اگر منظور ہو جاتا ہے تو اس کا حجم 6 سے 8 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتا ہے جو کہ ملک کا اب تک کا سب سے بڑا قرض ہوگا۔
جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ نے امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور سے متعلق ذیلی کمیٹی میں پاکستان کے انتخابات سے متعلق بیان جمع کرادیا۔
قرض کی ادائیگی بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور قرضوں کے بوجھ کے دوہرے چیلنج سے نبرد آزما ہیں، منیر اکرم